گریفائٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (1)


گریفائٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (1)
تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
گریفائٹس ایک کاربن ہے۔ کاربن پر مشتمل ادویات کے اکثر اوصاف اس میں پائے جاتے ہیں۔
یہ ایک انٹی سورک دوا ہے۔ جن جسموں میں کاربن کی زیادتی ہوتی ہے ان میں آپکو سختی اور بھاری پن نمایاں ملتا ہے۔ گریفائٹس کے مریض بھی بھاری بھرکم ہوتے ہیں۔
آپکو کلکیریا کا موٹا مریض یاد ہو گا ۔ موٹاپے کے باوجود گریفائٹس کلکیریا سے سے یکسر مختلف ہے۔ گریفائٹس ٹھوس اور سخت جسم کا مالک ہوتا ہے ، انکے ذہن و جسم میں نرمی اور گداز کا نام و نشان نہیں ہوتا ۔ انکی جلد کو چھو کر دیکھیں تو اس میں بھی آپکو سختی اور کھردرا پن نمایاں طور پر محسوس ہوگا۔
جبکہ کلکیریا میں نرمی اور ملائمت ہے۔ ان سے ہاتھ ملائیں تو پر گوشت ہاتھ میں لگتا ہے کہ ہڈی ہی نہیں۔ کلکیریا ذرا سی محنت اور مشقت سے جلد تھک جاتے ہیں انہیں رک کر دم لینا پڑ تا ہے۔ جبکہ گریفائٹس کو تو جیسے اللہ نے موٹا وجود دیا ہی مشقت کے لیے ہے۔ وہ سخت جان ہوتے ہیں۔
گریفائٹس ذہنی اور عقلی لحا ظ سے بھی موٹے ہوتے ہیں۔ انکا ذہن دقیق اور نفیس باتوں کو سمجھنے سے عاری ہوتا ہے۔ جذباتی سطح پر بھی ہمیں وہی موٹا پن اور سختی نظر آتی ہے۔
یہ نہیں کہ گریفائٹس بے حس اور سخت دل ہوتے ہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی تاثر کے انکے دل و دماغ میں سرائت کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔
جب گریفائٹس غیر متوازن ہوتا ہے تو مریض غمگین، متفکر اور مایوس رہنے لگتا ہے۔ دماغ پہلے ہی کچھ موٹا ہوتا ہے ، اب بیماری میں دماغی صلاحیت اور کند ہو جاتی ہے، کسی بھی کام کے لیے ذہنی یکسوئی لازمی چیز ہے ، لیکن گریفائٹس کسی کام کے لیے بھی اپنا ذہن نہیں بنا پاتا، ہچکچاتا رہتا ہے، تذبذب میں پڑا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اپنے معاملات کے بارے میں پریشان رہتا ہے۔
کسی کام کاج کے لیے دل نہیں چاہتا ، اس پر مایوسی کا غلبہ ہوتا ہے ، اسی ذہنی پریشانی ، ڈیپریشن کے باعث اسکا نظام ہضم خراب رہنے لگتا ہے اور آخر کار اسے ڈیوڈینل السر کا عارضہ ہو جاتا ہے۔
یہاں پر یہ انا کارڈیم سے بہت مشابہہ ہے۔ موسیقی سن کر رونے لگتا ہے، دماغی علامات صبح کے وقت نمایاں ہوتی ہیں ، صبح اٹھنے پر دماغ سن محسوس ہوتا ہے ، چکر آتے ہیں اس وقت کسی معاملے پر سوچنا غور کرنا، اسکے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ یا پھر صبح جاگنے پر سر درد اور قے۔ سر کی چوٹی میں جلن۔ حدت اور تمتماہت بھی گریفائٹس کی نمایان علامت ہے۔

جاری ہے 

Comments